گوگل کی 2026 اینڈرائیڈ ایپ پالیسی کے تحت ہر ڈویلپر کو اپنی شناخت ویریفائی کرانی ہوگی، چاہے وہ ایپس پلے اسٹور کے ذریعے بانٹے یا تھرڈ پارٹی ویب سائٹس سے۔ اس کا مقصد صارفین کو مالویئر اور فراڈ سے بچانا ہے۔ یہ پالیسی اکتوبر 2025 سے شروع ہوگی اور 2027 تک دنیا بھر میں نافذ کر دی جائے گی۔


❓ اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ)

گوگل کی 2026 ایپ پالیسی کیا ہے؟

گوگل نے اعلان کیا ہے کہ 2026 سے ہر اینڈرائیڈ ایپ ڈویلپر کو اپنی شناخت ویریفائی کرانی ہوگی، چاہے وہ اپنی ایپ پلے اسٹور پر ڈالے یا تھرڈ پارٹی ویب سائٹس کے ذریعے بانٹے۔

یہ پالیسی کیوں متعارف کروائی جا رہی ہے؟

اس کا مقصد سیکیورٹی اور فراڈ کو روکنا ہے۔ نقصان دہ ایپس زیادہ تر سائڈ لوڈنگ کے ذریعے آتی ہیں۔ ڈویلپر ویریفیکیشن لازمی ہونے سے بدنیت لوگوں کو گمنامی میں چھپنا مشکل ہوگا۔

اس پالیسی سے عام صارف پر کیا اثر پڑے گا؟

اگر آپ صرف پلے اسٹور استعمال کرتے ہیں تو یہ آپ کے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ وائرس کا خطرہ کم ہو جائے گا۔ لیکن اگر آپ اکثر تھرڈ پارٹی ایپس انسٹال کرتے ہیں تو نئی رکاوٹوں کا سامنا ہوگا۔

ڈویلپرز کو کیا کرنا ہوگا؟

ڈویلپرز کو ایک نیا Android Developer Console استعمال کرنا ہوگا، جہاں: اپنی شناختی تفصیلات دینا ہوں گی (نام، پتہ، ID)۔ ہر ایپ کو رجسٹر کروانا ہوگا تاکہ گوگل اس کی ملکیت کو ویریفائی کرسکے۔

یہ پالیسی کب اور کہاں سے نافذ ہوگی؟
  • اکتوبر 2025 → پائلٹ پروگرام شروع ہوگا۔
  • ستمبر 2026 → سب سے پہلے برازیل، انڈونیشیا، سنگاپور اور تھائی لینڈ میں لاگو ہوگی۔
  • 2027 → یہ پالیسی دنیا بھر میں نافذ کر دی جائے گی۔
کیا اینڈرائیڈ اب iOS جیسا بند سسٹم بن جائے گا؟

نہیں، سائڈ لوڈنگ ختم نہیں ہوگی، لیکن ویریفیکیشن لازمی ہونے سے اینڈرائیڈ پہلے کی طرح کھلا پلیٹ فارم نہیں رہے گا۔ اب یہ زیادہ ریگولیٹڈ اور کنٹرولڈ ہوگا۔

کیا اس پالیسی سے پرائیویسی کا مسئلہ ہوگا؟

کچھ ڈویلپرز کو خدشہ ہے کہ ان کی ذاتی معلومات گوگل کے پاس محفوظ ہو جائیں گی۔ گوگل کا کہنا ہے کہ یہ ڈیٹا صرف "Accountability" کے لیے استعمال ہوگا، مگر پرائیویسی پر بحث جاری رہے گی۔